وزیراعظم عمران خان سے افغان طالبان کی ملابردار کی قیادت میں ملاقات 19

وزیراعظم عمران خان سے افغان طالبان کی ملابردار کی قیادت میں ملاقات

پاکستان کے دورے پر آنے والے افغان طالبان کے سیاسی دفتر کے عمائدین پر مستشمل وفد نے ملابردار کی قیادت میں آج وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم ہاؤس ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعرات کی دوپہر وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات میں پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ بھی شریک ہوئے۔
اس کے علاوہ ڈی جی آئی ایس آئی بھی اس ملاقات میں شریک تھے۔ملاقات میں امریکا اور طالبان کے درمیان معطل مذاکرات کی بحالی سے متعلق امور پر مشاورت کی گئی۔وزیراعظم عمران خان نے مذاکرات کی جلد بحالی پر زور دیا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے۔

پاکستان افغان عمل کی بحالی کے لیے تعاون جاری رکھے گا۔امریکی صدر کے ساتھ بھی مذاکرات کی بحالی پربات کی۔

یہ خطے میں امن کے لیے ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ افغان مسئلے کا حل سیاسی ہے۔ اس سے قبل افغان طالبان کے وفد نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی اس ملاقات میں پاکستان فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹینیٹ جنرل فیض حمید بھی موجود تھے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے افغان طالبان وفد کی ملاقات میں خطے کی صورتحال اور افغان امن عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزارت خارجہ حکام اور افغان طالبان کے درمیان ملاقات کا اعلامیہ جاری کیا گیا۔ اعلامیہ کے مطابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اورافغان طالبان وفد کا افغان امن عمل کی جلد بحالی پراتفاق ہوگیا۔ پاکستان افغان امن کے عمل کی بحالی کے لئے ہر ممکن اقدامات کرے گا۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ بہترماحول میں مذاکرات کے لئے تشدد کے سلسلے کو بند ہونا چاہئے، بہتر ماحول میں افغان امن عمل کی جلد بحالی ممکن ہوسکے گی۔
اس موقع پر وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان، افغانستان میں دوطرفہ تعلقات،ثقافتی ،تاریخی بنیاد پرہیں، افغانستان میں عدم استحکام کاخمیازہ یکساں طورپربھگت رہے ہیں، پاکستان سمجھتا ہے جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے ، افغان امن کے لیے مذاکرات ہی مثبت اورواحد راستہ ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دنیا افغانستان سے متعلق ہمارے مؤقف کی تائید کررہی ہے، پاکستان 40 سال سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے، ہماری خواہش ہے دیرپا اور پائیدار امن و استحکام کی راہ ہموار ہو سکے ، پاکستان افغان امن عمل کے لیے مصالحانہ کردار ادا کرتا رہے گا۔ افغان طالبان وفد کی امن عمل میں پاکستان کے مصالحانہ کردار کی تعریف کی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں